سینٹ پیٹرز برگ میں روسی صدر دمتری میدویدیف سے دو طرفہ بات چیت میں سرکوزی کا کہنا تھا کہ سلامتی کونسل میں تہران کے خلاف منظور کی گئی پابندیوں کا مقصد اسے سزا دینا نہیں بلکہ ایرانی قیادت کو واپس مذاکرات کی میز پر لانا ہے اور فرانس عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی میں ایران کے ساتھ بلا تاخیر بات چیت شروع کرنے کیلئے تیار ہے۔ دونوں رہنماؤں نے سینٹ پیٹرزبرگ اکنامک فورم میں بھی شرکت کی۔ جہاں سرکوزی کا کہنا تھا کہ سرد جنگ اور تقسیم کرنے والی دیواریں ماضی کا حصہ ہیں۔ اب روس اور فرانس یورپ سمیت دنیا بھر میں مل کر کام کریں گے۔ سرکوزی کے دورہ روس میں تیل و گیس، ایرواسپیس اور ٹرانسپورٹ انڈسٹری میں تعاون کے کئی معاہدوں پر دستخط ہوئے۔ سب سے اہم معاہدہ ایرواسپیس کے شعبے میں ہوا۔ جس کے تحت روس فرانسیسی کمپنی کو پچاس کروڑ ڈالر سے زیادہ کے خلائی راکٹ لانچرز فروخت کریگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/110